ایسے دور میں جب ہر طرف عالمی زبانوں کا غلغلہ ہے، اور نئی نسل ٹیکنالوجی کی زبان میں سوچنے لگی ہے، اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا اردو اپنی پہچان برقرار رکھ پائے گی؟ میرا جواب ہمیشہ اثبات میں رہا ہے۔
زبان دراصل اُس تہذیب کی روح ہوتی ہے جو اسے بولتی ہے۔ اردو نے صدیوں کے سفر میں فارسی، عربی، ترکی اور مقامی بولیوں سے جو کچھ سمیٹا، وہ اسے ایک غیر معمولی لچک عطا کرتا ہے۔
آج جب نوجوان اپنے موبائل پر اردو میں شاعری لکھتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ زبان مر نہیں رہی بلکہ نئے پیرہن میں ڈھل رہی ہے۔
ادب کا کام صرف تفریح نہیں، بلکہ شعور کی آبیاری ہے۔ اگر ہم نئی نسل کو اچھا ادب فراہم کریں تو اردو کا مستقبل تابناک ہے۔
تبصرے (2)