→ واپس شاعری
نظم
امید
صبیحہ ناز
اندھیرا کتنا ہی گہرا ہو، صبح کا وعدہ سچا ہے۔اندھیرا کتنا ہی گہرا ہوصبح کا وعدہ سچا ہےہر رات کے آخری پہر میںایک نیا سویرا چھپا ہے
❋
تو ہمت مت ہار مسافرمنزل تیری راہ تکتی ہےقدم بڑھا، دل کو تھام لےیہ زمین بھی تیری، یہ آسمان بھی
تبصرے (0)