→ واپس شاعری
غزل
اب کتنی باتیں کرنی ہیں
نعیم الرحمٰن
وہ عشق کہاں، وہ سوز کہاں، وہ تیرا مجھ پہ مان کہاں؟جو سوچ کے دن کٹ جاتا تھا، وہ چاہت اور ارمان کہاں؟
❋
تم بات چھپا کر رکھتے ہو، اِس بات پہ جھگڑا رہتا تھااب کتنی باتیں کرنی ہیں، پر سننے والے کان کہاں!!!
❋
میں آج بھی یاد کے صحرا میں یوں مارا مارا پھرتا ہوںتو آکے مجھ کو دیکھ تو لے، میں رہتا ہوں میری جان کہاں!
❋
جب وقت کا مرہم لگتا ہے، ہر درد یہاں مٹ جاتا ہےکچھ زخموں کی پر قسمت میں یہ راحت کا سامان کہاں؟
❋
اب تنہا کالی راتوں میں، میَں اکثر سوچتا رہتا ہوںیہ دل میں بسنے والے بھی ہوجاتے ہیں انجان کہاں؟
تبصرے (0)