شہر پر دھند کی ایک موٹی چادر تنی ہوئی تھی۔ سڑکیں دھندلی، چہرے دھندلے، اور دلوں کے فاصلے اور بھی دھندلے۔
وہ روز اسی چائے خانے میں آتا، ایک کونے کی میز پر بیٹھتا، اور گھنٹوں کھڑکی سے باہر دیکھتا رہتا۔
پھر ایک دن دھند چھٹی۔ اور اس دن اسے احساس ہوا کہ برسوں سے جس چہرے کی تلاش تھی، وہ سامنے والی میز پر روز بیٹھا رہا تھا۔ مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
تبصرے (0)
پہلا تبصرہ آپ کیجیے۔