یہ تو خالق کا فیصلہ تھا اور اس کی رضا تھی کہ عرب کی مٹی خاص ہوئی ، یہاں کے پہاڑ ، اِدھر کی وادیاں اور اُن کے آگے دور تک پھیلے صحرا ، سب معزز و ممتاز ہوئے ، حتیٰ کہ اس دیس کی ریت بھی اک جہاں کی نظر میں یاقوت و جواہر سے بڑھ کر قیمتی ۔

ابراہیم علیہ السلام کہ کنعان کے باسی تھے ، اور رشد و ہدایت کے پیشوا ، ہر ہر دم تسلیم و رضا کے پیکر ، حکم ہوا کہ اپنا آبائی علاقہ چھوڑ دیں تو وہ گلیاں اور چوبارے کہ جہاں بچپن بِتایا ، جوانی گزری ، سب چھوڑ دیا ۔ حکم ہؤا کہ پہلوٹھی کے فرزند کو قربان کریں تب بھی تسلیم ، حکم ہوا کہ صحراؤں کے بیچوں بیچ مقید اک بے آب و گیاہ وادی کی طرف نکلیں اور اس بچے کو ماں کے ساتھ ادھر چھوڑ آئیں ، تب بھی تسلیم ۔ ابراہیم علیہ السلام نکلے اور بچے کو اس کی ماں کے ساتھ اُدھر چھوڑ آئے ۔

اس روز کا قصہ بھی کچھ عجب تھا کہ کچھ اناج اور ایک مشکیزہ پانی سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ہمراہ لیا اور اپنی عزیز از جان اہلیہ حاجرہ اور پہلوٹھی کے بچے اسماعیل کو اس وادی غیر ذی زرع میں چھوڑا اور چل دیے ۔ سیدہ حاجر ہ کہ کئی روز سے سوچ و بچار میں تھیں کہ یہ کیسا سفر اور کس جانب سفر ؟

اب جو منزل آئی تو چٹیل پہاڑ اور خرابہ کہ دیکھ کر بھی من میں ہول اٹھے اور جی گھبرا گھبرا جائے ، اس پر ہزار سامانِ حیرت کہ عمر بھر کے شفیق ، مہربان میاں اس خرابے میں ماں بیٹے کو چھوڑ کے واپس پلٹ رہے تھے ۔

مبتلائے حیرت ، سیدہ نے پوچھا :

"ابراہیم ! ہمیں یہاں کس کے سہارے چھوڑ کے چل دیے"

ابراہیم نے پلٹے بنا جواب دیا کہ:

" اللہ کے سہارے "

سیدہ نے پھر پوچھا :

" کیا یہ خود کا فیصلہ ہے یا اللہ کا حکم "

ابراہیم علیہ السلام نے پھر کہا کہ :

"اللہ کا حکم ہے"

سیدہ ہاجر ہ کے لہجے میں ایک دم جیسے اطمینان اتر آیا ، اضطراب گہرے سکون میں بدل گیا اور جیسے کچھ بے نیاز سی ہو کے کہنے لگیں :

" پھر ٹھیک ہے آپ جائیے ، اگر یہ اللہ کا حکم ہے تو وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا "

ابراہیم علیہ السلام کہ ارضِ بابل سے آئے تھے اور بابل کو چل دیے ۔ لمبا سفر تھا اور دل بیٹے کی دوری سے کچھ مضطرب مضطرب ۔۔۔۔کہ

اب کے بچھڑے ہوئے تو شائد خوابوں میں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

جب اتنی دور چلے گئے کہ یہ یقین ہو گیا سیدہ حاجر ہ اب ان کو دیکھ پائیں گی نہ سن پائیں گی ، تو ابراہیم علیہ السلام رک دیے ۔ نگاہ آسمان کو بلند کی ، ہاتھ اٹھا لیے ، ساری کائنات اس تنہا باپ کے اٹھے ہاتھوں میں سمٹ آئی ۔ دل کی ساری محبتیں ابراہیم کے ہونٹوں پر پھول بن کے اترنے لگیں ، ابراہیم کہہ رہے تھے ، اپنے اللہ سے مناجات کر رہے تھے:

(رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ)

الہ العالمین ! میں نے اپنے بال بچوں کو ایک غیر آباد جنگل میں تیرے برگزیدہ گھر کے پاس چھوڑا ہے ۔۔۔۔۔۔

تاکہ وہ نماز قائم کریں تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے اور انہیں پھلوں کی روزیاں دے ، شاید وہ شکر گزاری کریں ۔۔

پھر یہ دعا یوں قبول ہوئی کہ کم کم دعائیں یوں قبول ہوتی ہیں ۔ ابراہیم علیہ السلام دھیرے دھیرے اپنے وطن کی طرف چل دیئے ۔

ادھر یہ تنہائی ، سناٹا ہماری اماں کے لیے تو ایسا آسان نہ تھا ۔ بیابانی اور خوف کا سناٹا تو دونی مصیبت تھی جو تھی ، بچہ بھی پیاسا تھا اور پانی ندارد ، اسباب کے روز چلتا ؟ ۔

دن گزرتے گئے اور پانی ختم ہوتا گیا۔ ایک روز آخری بوند بھی تمام ہوئی اور پیاس کا غلبہ ہونا شروع ہوا ۔ اس پیاس اور اسماعیل کے تڑپنے نے تاریخ کا اگلا ورق پلٹنا تھا اور یہ سب اس کا اِہتمام تھا ۔

اسماعیل کی پیاس سے ماں بےچین ہو کر اٹھیں ، ہاں ہماری ماں حاجرہ !

بیٹے کو زمیں پر لٹایا اور دل کی بےچینی کے ہاتھوں قریبی پہاڑی صفا پر چڑھیں کہ امید کی کوئئ کرن چمکے ، آس کی کوئی امید پھوٹے ، معلوم تھا اور ہزار بار معلوم کہ دور تک کوئی نہیں ہے ۔

تنہایوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو !

لیکن !

ممتا ایسی مایوس کن باتوں کو حیلہ جو کی کٹ حجتیوں سے بڑھ کر کچھ نہیں جانتی ۔۔۔ سو ممتا صفا سے اتری تو پورب کو بھاگی ، اُتّر اور دَکّھن کی طرف نگاہ کی اور پھر پچھم کو مروہ کی طرف بھاگیں ۔ مروہ کی پہاڑی آدھ کیلومیٹر کی دوری پر تو رہی ہو گی ۔کچھ چلی ، کچھ بھاگیں ، لیکن مروہ کے پیچھے بھی آس ، امید کی کوئی کرن نہ پھوٹی ، پورب سے پچھم اور مروہ سے صفا ایک ایک قدم ، اک اک نقشِ قدم ، لاکھوں کروڑوں افراد کا محلِ عبادت ٹھہرا ۔۔۔۔۔ ممتا ہر بار اسمعیل کے پاس آتی ، بیٹے کو پاتی تسلی ہوتی تو اگلے لمحے اس کی تڑپ سے تڑپتی اور پھر پہاڑی پر چڑھ جاتیں ۔

سات بار یہ آنا اور جانا ، امیدوں کا اترنا اور چڑھنا رہا اور پھر امید کا زمزم اترا ۔ اسماعیل ہی نہیں ہم سب بھی سیراب ہوئے اور نسلوں کی پیاس بجھی ۔