زمزم کنارے ماں بیٹا زندگی کی کتاب کا نیا باب کھولنے کو تھے ، کچھ ہی دن میں اس مقدس پانی سے زندگی نمو پانے لگی ۔ زمزم تو اب اترا تھا لیکن اس سے پہلے بھی نشیب میں ہونے کے سبب بارشوں کے بعد یہاں کبھی پانی جمع ہو جاتا تھا اس سبب یہ علاقہ قافلوں کی گزر گاہ رہتا تھا ، ممکن ہے کہ آنے جانے والے قافلوں کو امید رہتی ہو کہ کسی گزری بارش کا پانی ان کے نصیب کا بھی برسا ہو اور جمع ہو ۔ لیکن معمول میں یہ چھوٹی سی وادی خشک اور بے آب و گیاہ ہی تھی ، جس کے بیچ میں ایک ٹیلہ سا تھا کہ سطح زمین سے کچھ بلند لیکن مقدروں والا کہ اس کو بلند تر ہونا تھا اور کعبتہ اللہ قرار پانا تھا ۔ اس ٹیلے کے جوار میں ایک اکیلا درخت تھا کہ جس کے سائے میں ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل اور ام اسماعیل کو چھوڑا تھا ۔
آبادی کا قصہ کچھ یوں ہوا کہ جرہم ثانی قبیلے کے کچھ لوگ سفر میں تھے تو ایک پہاڑ کی اوٹ میں قیام پذیر ہوئے ، اسی قیام میں ان کو کچھ پرندے اڑتے دکھائی دیے تو حیرت ان کی آنکھوں میں اتر آئی کہ وہ تو مدتوں سے اسی راہ سے گزرتے اور یہ راہ کسی بھی وجود سے ہمیشہ خالی ، آج یہاں پر پرندے کیوں کر ؟
ان کی نگاہ میں پرندلوں کا ہونا زندگی کے اسباب سے تھا کہ پرندے پانی پر اترتے ہیں ۔ اسی تجسس میں انہوں نے اپنے دو ساتھیوں کو تلاش کے لیے کہا اور وہ یہ خبر لے کے آئے کہ ماں بیٹے پر مشتمل ایک چھوٹا سا خاندان ایک چشمے کے کنارے بیٹھا ہے ۔ یہ سب کچھ ان کے لیے حیران کن تھا کہ ان پتھریلی چٹانوں اور پہاڑیوں کے دامن میں پانی کہاں سے اتر آیا اور اسی حیرت کے عالم میں وہ آگے بڑھتے چلے آئے ۔ جب قریب پہنچے تو اس وقت سیدہ ہاجرہ زمزم کنارے ہی بیٹھی تھیں ۔ ایسا میٹھا ٹھنڈا پانی کہ روح تک میں اس کی تاثیر اتر آئے ، سو انہوں نے وہاں ٹھہرنے کی اجازت طلب کی اور سیدہ نے اجازت مرحمت فرمائی ، لیکن کہہ دیا کہ :
" پانی بھلے جیسا اور جتنا چاہے استعمال کرو لیکن اس کی ملکیت آپ کی نہیں ہوگی " ۔
انہوں نے اس شرط کو تسلیم کیا ، رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا :
" فَأَلْفَى ذَلِكَ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ "
" ام اسماعیل کو پڑوسی مل گئے "
رسول مکرم ﷺ کا جملہ دیکھیئے کہ کیسا بلیغ ہے ، اس میں انسانی فطرت کا ایک پہلو مکمل طور پر بیان کر دیا گیا کہ انسان آبادیوں میں اور آبادی بنا کر رہنا پسند کرتا ہے ۔
اب جو پانی میسر ہوا تو قبیلہ جرہم کے کچھ گھرانے مستقل طور پر وہاں اٹھ آئے اور خرابہ اب آباد ہونے لگا ۔ آہستہ آہستہ آبادی بڑھنے لگی اور وادی چھوٹا سا قصبہ اور پھر قصبے سے شہر ہونے کا سفر طے کرنے لگی ۔ یہ مکہ تھا کہ جو اب آباد ہو رہا تھا ۔
سیدنا اسماعیل پھر اسی وادی غیر ذی زرع میں جوان ہوئے اور وادی آباد ہوئی ، اور گویا ہر طرف بہار آ گئی ۔
اور ہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس عرصے میں کئی بار اپنے گھرانے کو دیکھنے اس وادی میں آئے ، تاریخ میں مکہ کی طرف ان کے ایک سے زیادہ اسفار کی طرف اِشارہ ملتا ہے جیسا کہ وہ مشہور قصہ ذبح ہے کہ جس کی یاد میں آج ہم مسلمان عیدالاضحیٰ مناتے ہیں اور قربانی کرتے ہیں ۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں ، آپ نے بطورِ رسول اس خواب کو حکم الٰہی سے تعبیر کیا ۔ آپ نے اپنے لختِ جگر اور نورِ نظر اسماعیل سے اپنا خواب بیان کیا تو انہوں نے سر تسلیمِ خم کرتے ہوئے کہا :
" يَآ اَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِـىٓ اِنْ شَآءَ اللّـٰهُ مِنَ الصَّابِـرِيْنَ ۔۔۔۔ "
" اے ابا ! جو حکم آپ کو ہوا ہے کر دیجیے، آپ مجھے ان شا اللہ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے "
سیدنا ابراہیم علیہ السلام بیٹے کے اس سعادت مندانہ جواب سے حوصلہ مند ہوئے اور ان کو لیے مِنٰی کی جانب چلے آئے ۔ ایک روایت میں ہے کہ باپ بیٹے کی اس حوصلہ مندی نے شیطان کو پریشان کر دیا اور وہ ایک بزرگ صورت اختیار کیے راہ میں حائل ہوا ، اور کہنے لگا ۔۔۔:
" ہائے ابراہیم ! کیا کرتے ہیں ، بچے کی جان ہی لے لیں گے کیا "
ابراہیم علیہ السلام نے اسے گویا بھٹکاتے ہوئے کہا کہ :
" کیا کوئی باپ بھی ایسا کر سکتا ہے کہ اپنے نورِ نظر کی جان کو آ جائے؟ ۔۔"
" مجھے علم ہے کہ آپ کو آپ کے رب نے یہ حکم دیا ہے اور آپ اس لیے ہی نکلے ہیں ، سو کہاں ٹلیں گے " ۔۔ شیطان نے جواب میں کہا ، تو اس پر استقامت کے امام ابراہیم علیہ السلام نے دو ٹوک کہا کہ:
" پھر جب رب کا حکم ہو تو بھلابراہیم کیونکر رکے ؟ ۔"
ابلیس مایوسی میں سیدہ ہاجرہ کی طرف نکلا اور وہاں سے بھی یہی جواب پا کر راندہ درگاہ ہوا ۔۔
ابراہیم علیہ السلام دھیرے دھیرے چلتے منٰی کے میدان میں پہنچ چکے تھے ۔ مناسب سی گھاٹی دیکھ کر آپ نے اسماعیل علیہ السلام کو زمیں پر لٹایا اور چھری اٹھائی ۔ باپ کا دل تو پھر باپ کا ہوتا ہے ، چاہا کہ اسماعیل کے چہرے پر نگاہ نہ آئے ، سو منہ کے بل لٹا کر چاہا کہ چھری چلا دیں اور دفعتاً فطرت کے قوانین بدل گئے کہ چھری نے آج کاٹنے سے انکار کر دیا ، سب لمحوں کا کھیل تھا ، امتحان ، آزمائش اور تسلیم و رضا ۔۔۔ اور باپ بیٹا دونوں اس میں کامیاب رہے اور آسمان سے ندا آئی
وَنَادَيْنَاهُ اَنْ يَّـآ اِبْـرَاهِـيْمُ ۔
قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِيْنَ
اِنَّ هٰذَا لَـهُوَ الْبَلَآءُ الْمُبِيْنُ ۔
وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْـحٍ عَظِـيْمٍ ۔
اور ہم نے اسے پکارا کہ اے ابراھیم !
تو نے خواب سچا کر دکھایا، بے شک ہم اسی طرح نیکو کاروں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ۔ البتہ یہ صریح آزمائش ہے ۔ اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض دیا۔
مِنٰی کا یہ میدان کہ اب مکہ کی آبادی کے جوار بلکہ ساتھ شامل ہو چکا ہے اس عظیم قربانی کی یادگار ٹھہرایا گیا اور ہر سال دنیا بھر سے حاجی یہاں جمع ہو کر اسی سنت کی یاد میں اپنے اپنے جانور قربان کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ابراہیم خلیل کے بیٹے ہمارے رسول مکرم ﷺ کی امت کے اربوں مسلمان اپنے اپنے مقام و مسکن پر قربانی کر کے سیدنا اسماعیل کی اسی تسلیم و رضا کی یاد تازہ کرتے ہیں ۔


تبصرے (0)
پہلا تبصرہ آپ کیجیے۔