دورِ حاضر میں جنزیشنز کے مختلف ناموں کا چرچا بارہا سننے کو ملتا ہے، بومرز، زی، ایلفا وغیرہ۔ ان ناموں سے جنریشن گیپ کا اظہار ہوتا ہے، فکرواقدار کا اختلاف، شعور و فہم کا فرق اور رسم و رواج میں واضح تبدیلی کا برملا اعلان۔
مگر اسلام کے ماننے والوں کی خوبصورتی یہ ہے کہ ان کے ہاں یہ گیپ نہیں ہے، نسل کے بدلنے سے فرق نہیں آتا، ٹیکنالوجی کوئی دراڑ نہیں ڈالتی، وقت کسی رسم و رواج، اور رہن سہن کی داغ بیل نہیں ڈالتا۔ اس صف کا ہر سپاہی وہ پہلا ہو یا آخری آپس میں جڑا ہوا ہے۔ نہ اس کی اخلاقیات بدلتی ہیں، نہ نظریہ تبدیل ہوتا ہے، نہ فکر و فہم کا کوئی نیا باب واہ ہوتا ہے، جہاں فرق آیا وہاں فتنے نے اپنی راہ لی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ جدیدیت کا انکار ہے بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کا ہمہ جہت نصاب ایک ہی طرز اور طریقہ وضع کرتا ہے جو ہمیشہ سب سے جدید رہتا ہے۔ جو اپنے ماننے والے کو سب سے زیادہ کارآمد، طاقت ور، تہذیب یافتہ،صاحبِ فہم و ذکا اور علم و فنون سے آراستہ رکھتا ہے۔ وہ معاشرتی، معاشی، سیاسی، سماجی، ثقافتی اور اخلاقی برتری کے تمام طریقوں پر وقت کی ضرورت سے ہم آہنگ نظر آتا ہے اور اس کی ایک ہی جنریشن ہے۔


تبصرے (0)
پہلا تبصرہ آپ کیجیے۔